اعمالِ اولیائے کرام سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی ولی کامل سے منسوب ہوں۔ ان اعمال کی روحانی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے اور فرشتوں کی غیبی مدد پڑھنے والے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اعمالِ اولیاء سے جہاں بہت جلد فائدہ ہوتا ہے، وہیں ان کی چند شرائط بھی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی شرط تو گناہوں سے حتی الامکان دوری ہے۔ فرائض کی پابندی، سنت پر عمل، اولیائے کرام سے محبت اور صحیح العقیدہ ہو تو ان شاء اللہ بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور ناممکن کو ممکن ہوتا بڑی آسانی سے دیکھے گا۔
ہماری روحانی درسگاہ میں کئی طرح کے اعمالِ اولیائے سکھائے جاتے ہیں۔ ان اعمال کی اجازت تین طرح سے دی جاتی ہے۔
اول) اجازت کے بعد زکوٰۃ بھی دلوائی جاتی ہے یعنی عمل بھی کروایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ہر اس شخص کے لیے ہے، جو عملیات کے شعبے میں ابھی مبتدی کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوم) خاص اجازت کے ساتھ مختصر عمل کروایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ صرف عاملین کے لیے ہے یا ان افراد کے لیے جن کی روحانی طاقت زیادہ ہو۔
سوم) صرف خاص اجازت دی جائے۔ یہ طریقہ صرف ان عاملین کے لیے ہے جنہوں نے پہلے اعمالِ اولیاء کے عمل کیے ہوں۔ صرف برکت کے لیے مزید اجازت چاہ رہے ہوں۔ مثلاً کوئی پہلے سے ہی حزب البحر کا عامل ہو اور مزید برکت کے لیے اجازت لینا چاہ رہا ہو تو اس کو اجازت دی جاتی ہے اور کوئی عمل نہیں کروایا جاتا۔

اجازت کا طریقۂ کار

اعمالِ اولیائے کرام کے کسی بھی عمل کی اجازت کا کوئی ھدیہ نہیں لیا جاتا۔ برکت کے لیے ہر خاص و عام اجازت لے سکتا ہے۔ اجازت کے لیے ماہنامہ خزینۂ روحانیات کے آخری صفحے پر دیا گیا کوپن پُر کرکے روحانی درسگاہ کو ارسال کر کے اجازت لی جا سکتی ہے۔ یہ اجازت بزرگوں کے طرز پر دی جاتی ہے۔
اگر برکت کی بجائے عاملوں کے طرز کی اجازت درکار ہو تو اس کا ھدیہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ عاملوں کے طرز سے مراد ہے کہ اس خاص عمل کی غیبی طاقتوں سے غائبانہ تعلق قائم ہو جائے اور دیگر عملیات کی طرح اس عمل کو بھی روحانی علاج میں استعمال کرکے خود بھی فائدہ اٹھایا جائے اور عوام الناس کو بھی فائدہ پہنچایا جائے۔ جو کرنا چاہیں، وہ روحانی درسگاہ رابطہ کرکے مزید تفصیلات پوچھ سکتے ہیں۔

روحانی درسگاہ میں درج ذیل اولیاء کرام کے اعمال کروائے جاتے ہیں:۔

                
            

 کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان  -- 2026

 

Subscribe for Updates

Name:

Email: