
| روحانی اعمال کے درجات: ایک جامع اور رہنمائی پر مبنی وضاحت |
روحانی درسگاہ میں جو اعمال سکھائے جاتے ہیں، وہ محض الفاظ یا گنتی کے اذکار نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے ایک ’’منظم ترتیب اور حکیمانہ نظام‘‘ کارفرما ہوتا ہے، جو ہمارے بزرگوں نے ترتیب دیا ہے۔ اس نظام کے مطابق عموماً روحانی اعمال کو’’چھ درجات‘‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ان چھ درجات میں:۔
۔*’’پہلے تین درجات‘‘ کو’’ چھوٹے درجات‘‘ کہا جاتا ہے۔
۔* جبکہ
’’چوتھا، پانچواں اور چھٹا درجہ‘‘، ’’بڑے درجات‘‘ کہلاتے ہیں۔
ہر طالبِ علم کے لیے ان درجات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ روحانی دنیا میں
طاقت، اختیار اور اثر ’’درجے کے مطابق‘‘ عطا ہوتا ہے، خواہش کے مطابق نہیں۔
| عمل اور عا ملِ کامل کا فرق |
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کوئی شخص کوئی بھی عمل کر لے تو وہ فوراً ’’عامل کامل‘‘ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک عمل کا عاملِ کامل بننا، ایک ’’طویل، محنت طلب اور اعلیٰ مقام‘‘ ہے۔
ہر عمل کسی نہ کسی درجے سے منسلک ہوتا ہے، اور انسان اسی درجے کے مطابق اس عمل کی طاقت کو استعمال کر سکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص آیۃ الکرسی کو اکتالیس (41) دن تک اکتالیس (41) مرتبہ پڑھ لے، تو یہ سمجھ لینا کہ وہ اس عمل سے بڑے بڑے غیر معمولی کام لینے لگے گا، وہ اس کا بڑا عامل بن گیا،ایک سخت غلط فہمی ہے۔ کتابوں میں مختلف چِلّوں اور تعداد کا ذکر ملتا ہے، لیکن یاد رہے:۔
۔* ہر سلسلے
کا نظام الگ ہوتا ہے
۔* ہر استاد کی ترتیب جدا ہوتی ہے
۔یہاں ہم ’’اپنے متعین نظام‘‘ کے مطابق چھ درجات کی
وضاحت کر رہے ہیں۔
| پہلا درجہ: ذاتی درجہ |
پہلے درجے کو ’’ذاتی درجہ‘‘ کہا جاتا ہے۔اس درجے میں کیا گیا عمل:۔
۔*صرف اپنی ذات کے لیے
۔* یا اپنےاہلِ و عیال کے لیے مؤثر ہوتا ہے۔ اہلِ و عیال سے مراد اگر مرد عمل کرے تو: بیوی اور بچے۔ اور اگر عورت عمل کرے تو: شوہر اور بچے
مزید یہ کہ گھر میں رہنے والے ماں باپ اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس دائرے سے باہر کسی شخص کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔
اصل ذاتی درجہ بنیادی طور پر ’’شوہر، بیوی اور بچوں‘‘ تک محدود ہوتا ہے، کیونکہ حقیقی قربت، ساتھ رہنا اور روزمرہ زندگی انہی کے ساتھ ہوتی ہے۔
| دوسرا درجہ: محدود درجہ |
دوسرا درجہ ’’محدود درجہ‘‘کہلاتا ہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔اس درجے میں:۔
۔* اہلِ و عیال تو شامل ہوتے ہی ہیں۔
۔* اس کے علاوہ ’’چند مخصوص افراد‘‘ کا علاج یا مدد بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ سب ایک محدود دائرے میں ہوتا ہے۔یہ درجہ ذاتی دائرے سے آگے تو ہے، لیکن عمومی یا ہمہ گیر نہیں۔
| تیسرا درجہ: عاملانہ درجہ (چھوٹا عاملانہ درجہ)۔ |
تیسرا درجہ ’’عاملانہ درجہ ‘‘ کہلاتا ہے، تاہم یہ اب بھی چھوٹے درجات میں شامل ہے۔ اس درجے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ:۔
۔* باقاعدہ کسی جگہ بیٹھے
۔* اپنا آستانہ یا مرکز قائم کرے
۔* اور آنے والے عام مریضوں کا علاج کرے تو یہ درجہ اس کے لیے موزوں ہے۔
اہم
وضاحت (جادو اور جنات کے علاج کے حوالے سے):۔
روحانی علاج میں عام بیماریوں کا علاج تو
نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر جادو اور جنات کا علاج ایک جنگ کی مانند ہوتا ہے۔ اس میں
ایک طرف مریض ہوتا ہے اور دوسری طرف’’ عامل، اس کی مخلوق یا جنات و شیاطین۔‘‘
تیسرے درجے کا عامل مریض کی حد تک علاج تو کر سکتا ہے مگر جو پیچھے سے حملہ آور
طاقتیں ہوتی ہیں، ان پر براہِ راست وار کرنا اس کے اختیار میں نہیں۔ اگر وہ ایسا
سمجھے تو یہ اس کی غلط فہمی ہوگی۔
| چوتھا درجہ: بڑا عاملانہ درجہ |
چوتھے درجے میں داخل ہونے پر:۔
۔* بڑی
روحانی طاقتیں عطا ہوتی ہیں
۔* طاقتور جنات
۔* مضبوط روحانی ہتھیار
۔* اور وسیع اختیارات نصیب ہوتے ہیں (اگر کامیابی
حاصل ہو)۔
اس درجے کا عامل:۔
۔* مریض کا
بھی علاج کر سکتا ہے۔
۔* اور پسِ پردہ موجود ساحر، جنات، شیاطین یا انسانی
عاملین سے براہِ راست مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔
یہ درجہ حقیقی روحانی جنگ کا درجہ ہے۔
| پانچواں اور چھٹا درجہ: تعلیم و تربیت کے درجات |
ہمارے نظام میںپانچواں اور چھٹا درجہ عامل بننے سے زیادہ سکھانے کے درجات ہیں۔
| پانچواں درجہ |
اگر کوئی چاہے کہ:۔
۔* محدود
پیمانے پر دوسروں کو عملیات سکھائے۔
۔* پہلے تین درجے تک رہنمائی کرے۔
۔* اور چوتھے درجے کو محدود تعداد میں سکھا سکے تو وہ
پانچویں درجے میں آتا ہے۔
| چھٹا درجہ |
اگر کوئی شخص چاہے کہ:۔
۔* محدود
پیمانے پر دوسروں کو عملیات سکھائے
۔* بڑے درجے بھی مکمل طور پر سکھائے۔
۔* اعلیٰ عملیات کی اجازت دے۔
۔* اور مکمل نظام منتقل کرے۔
تو اس کے لیے ’’چھٹا درجہ ضروری‘‘ ہے۔
| ضروری تنبیہ اور خلاصہ |
یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ:۔۔
۔* ہر شخص
اپنی’’ضرورت کے مطابق‘‘ ہی درجہ کرے۔
۔* بلاوجہ اعلیٰ درجے کی طرف بڑھنا خطرناک ہے۔
۔* اور کم درجے میں رہ کر بڑے کام کرنا بھی نقصان دہ
ہے۔
اگر کوئی شخص عامل بن کر علاج کرنا چاہتا ہے مگر صرف پہلے درجے پر اکتفا کیے بیٹھا
ہے تو وہ نہ مطلوبہ طاقت رکھتا ہے، نہ حفاظت اور نقصان اٹھا سکتا ہے۔ بعد میں اس
ناکامی، نقصان کا الزام نظام یا استاد پر ڈالنا درست نہیں۔
| اختتامی کلمات |
اس پوری وضاحت کا مقصد صرف یہی ہے کہ:۔
۔*
آپ کو مکمل صورتحال معلوم ہو
۔* اپنی چاہت اور ضرورت کو
پہچانیں
۔* اور اسی کے مطابق درجہ
اختیار کریں
۔* پھر اسی درجے کے مطابق عمل
کو استعمال کریں
یہی حکمت، یہی سلامتی اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان -- 2026
