پریشانیوں، آفتوں، مصیبتوں، تکلیفوں ، مشکلات میں گرفتار، خوشیوں سے نا امید، زندگی سے مایوس بے بس افراد کے لیے خوشخبری,دار العمل چشتیہ کے شعبہ’’ روحانی علاج‘‘ کی بنیاد حضرت اقدس ولی کامل شیخ العاملین حضرت مولانا محمد امان اللہ نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی دعاؤں اور سرپرستی میں ۱۹۹۶میں رکھی گئی۔ الحمد للہ! ۱۹۹۶سے یہ شعبہ تاحال عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔ کئی روحانی معالجین اس شعبے میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں۔الحمد للہ!ایک کثیر تعداد میں اندرون اور بیرون ملک سائلین اور روحانی مریض فیض یاب ہو چکے ہیں۔
ہر قسم کی مصیبتوںو پریشانیوں سے نجات، روحانی و جسمانی بیماریوں سے شفا، جائز مقاصد کا حصول اور حاجتوں کےپورا ہونےکے لیے انتہائی زود اثر اور تیر بہدف قرآن کریم، حد یث نبوی، بزرگانِ دین، علمائے کرام اور ماہرین فنِ عملیات کے مستند، انمول و مجرب عملیات و تعویذات کو بروئے کار لاتے ہوئے روحانی رہنمائی اور روحانی علاج کیا جاتا ہے۔ ذیل میں چند مسائل لکھے ہیں جن کے حل کے لیے آپ ہماری خدمات حاصل کر سکتے ہیں.

 شادی کے مسائل  معاشی مسائل  ہر طرح کی بندشیں نظر بد، جادو، جنات
اولاد کے مسائل گھریلو/خاندانی مسائل سسرال کے مسائل زوجین کے مسائل
بیماریوں کا علاج تعلیمی مسائل  دشمنی کے مسائل جائیدد,عدالتی مسائل
حاجات کا پورا ہونا پریشانیوں سے نجات روحانی مسائل نفسیاتی مسائل

پریشانیوں اور بیماریوں کی وجوہات

مصیبت، مشکل، تکلیف، بیماری، پریشانی… الغرض کچھ بھی ہو، اس کی کوئی وجہ ضرورہوتی ہے۔ اصل وجہ تو’’ گناہوں کی شامتِ اعمال‘‘ ہے جس پر بالکل دھیان نہیں دیا جاتا۔ دنیا بھر کا علاج کروانے کو ہم تیار ہیں، مگر اللہ کے سامنے حقیقی توبہ کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اس لئے ہر پریشان اور مصیبت زدہ و بیمار انسان کو چاہیے کہ جتنا ممکن ہو، گناہوں سے بچے اور حقیقی توبہ اورکثرت سے استغفار کو اپنا معمول بنائے۔ اللہ کو راضی کیے بغیر سلامتی اور عافیت والی زندگی ممکن نہیںہے۔
اہلِ فن فرماتے ہیں کہ عمومًاپریشانیوں اور بیماریوں کی وجوہات چار ہوتی ہیں: (۱) نظر بد (۲) سحر و جادو (۳)جنات و شیاطین (۴) قدرتی۔ ان وجوہات میں سے کبھی ایک وجہ ہوتی ہے توکبھی ایک سے زائد وجوہات ہوتی ہیں۔
روحانی تشخیص سے پہلی تین وجوہات کا پتہ لگایا جا سکتاہے۔ سب سے پہلے روحانی تشخیص کروائیں تاکہ تسلی ہو جائےکہ پہلی تین وجوہات میں سے کوئی موجود تونہیں۔ اگرپہلی تین وجوہات میں سے کوئی بھی ہو تواس کو دور کئے بغیر پریشانی سے مکمل نجات نہیں ملتی اور نہ بیماری سے مکمل شفا ملتی ہے۔ خصوصًا جسمانی بیماریوں کے مریض علاج پر اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے ہیں لیکن شفا نہیں ہوتی اور کئی بار صحت مزیدخراب ہو جاتی ہے۔ پھر روحانی علاج سے اثراتِ بد کو دور کرنے میںوقت لگتا ہے اور اس کے بعدجسمانی علاج پر دوبارہ وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اس اصول کا مریضوں اور عاملین کی کثیر تعدادکوبہت تجربہ ہے ۔ اگر پہلی تین وجوہات میں سے کوئی وجہ نہ ہو تو لازمی چوتھی وجہ ہوتی ہے۔ چوتھی وجہ ہو تو کسی اللہ والے عالم یا بزرگ سے رجوع کیا جائے۔ اللہ کو ناراض کرنے والے اعمال چھوڑ کر راضی کرنے کے اعمال کیے جائیں۔

روحانی علاج گاہ میں روحانی علاج کرنے کے تین طریقے

روحانی علاج گاہ میں تین طریقوں سے روحانی علاج کیا جاتا ہے۔ علاج کا کوئی بھی طریقہ ہو،وہ ایک دنیاوی تدبیر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ نتیجہ صرف اور صرف اللہ ہی مرتب فرماتے ہیں۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ نتیجہ اللہ کے علاوہ کوئی مرتب کر سکتا ہے … یہ ’’شرک‘‘ ہے۔اس عقیدہ کی اصلاح کرنا لازم ہے۔ تینوں طریقوں کی تفصیل یہ ہے:
طریقہ اول: اس طریقے میں روحانی معالجین سائل/ مریض کے حالات سننے کے بعد وظیفہ/روحانی علاج بتا دیتے ہیں جس پر ساری محنت سائل/ مریض نے خود کرنی ہوتی ہے۔ روحانی معالجین پیچھے سے روحانی مدد نہیں کرتےاور نہ ہی کوئی عمل کرتے ہیں۔ سائل /مریض سے کوئی ھدیہ طلب نہیں کیا جاتا البتہ وہ اپنی مرضی سے جو ھدیہ دینا چاہے، دے سکتا ہے۔
طریقہ دوم: اس طریقے میں روحانی معالجین سائل/ مریض کے حالات سننے کے بعد روحانی علاج دیتے ہیں جو وظائف اور تعویذات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے میں بھی محنت سائل/مریض کو ہی کرنی ہوتی ہے البتہ روحانی معالجین کی روحانی قوت غائبانہ طور پر سائل /مریض کی معاونت کرتی ہے اور ضرورت ہو تو دورانِ علاج مریض/سائل روحانی معالج سے مشاورت بھی کر سکتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ روحانی معالج سائل/مریض کو اپنا ہتھیار دیتا ہے۔ ہتھیار چلانا سائل/مریض کا کام ہے۔ جیسے کہا جائے، ویسے سائل/ مریض کو کرنا چاہیے تاکہ بھرپور فائدہ ہو۔
جو سائل/مریض روحانی علاج گاہ تشریف لاتے ہیں، ان کو ایک سے دو ہفتے کا علاج دیاجاتا ہے۔ سائل /مریض سے کوئی ھدیہ طلب نہیں کیا جاتا البتہ وہ اپنی مرضی سے جو ھدیہ دینا چاہے، دے سکتا ہے۔ البتہ اگر روحانی دکان کا تیار علاج دیا جائے یا اشیاء دی جائیں تو ان کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔
طریقہ سوم:اس طریقے میں روحانی معالجین علاج کے ساتھ ساتھ خود بھی سائل/ مریض کے لیے عمل کرتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ روحانی معالج اپنے ہتھیاروں کے ساتھ سائل/مریض کے دشمن کا خود سامنا کرتا ہے اور سائل کو اپنےپیچھے کر دیتا ہے ۔راتوں کو بیٹھ کر پڑھتابھی ہے اور جیسی روحانی مدد کی ضرورت ہو، وہ بھی کرتا ہے۔ سائل/مریض اپنے روحانی معالج سے مکمل رابطے میں رہتا ہے۔ اور روزمرہ حالات کی اطلاع کرکے مشورہ لے سکتا ہے۔ اس طریقے میں کافی محنت کرنی پڑتی ہے، وقت لگتا ہے اور جنات جادو کے علاج میں عامل اور اس کے اہل و عیال کو خطرہ بھی ہوتا ہے۔
جس ’’روحانی معالج‘‘ سے آپ نے علاج کروانا ہے، معاملات بھی وہی طے کرے گا۔ھدیہ کتنا ہوگا؟ کتنی مدت تک ’’روحانی معالج‘‘ مدد کرے گا؟ اور اس طرح کے تمام معاملات پہلے طے کریں۔ اس لیے بہتر ہے کہ پہلے استخارہ کرلیا جائے کہ روحانی علاج گاہ کےفلاں روحانی معالج سے علاج کراؤں یا نہیں؟ اگر مطمئن ہوں تو پھر رابطہ کریں۔یاد رہے کہ تدبیر ہماری ہوگی مگر نتیجہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مرتب فرماتے ہیں۔رقم محنت کی لی جاتی ہے، نتیجے کی نہیں۔ جو بھی خرچہ ہوگا اور رقم وصول کی جائے گی، وہ ناقابلِ واپسی ہوگا۔

روحانی علاج کرنے کی شرائط

گزارش ہے کہ درج ذیل شرائط کو پڑھنے کے بعد رابطہ فرمائیں۔
۔*…روحانی علاج گاہ میں فون، ای میل،فیس بک، انٹرنیٹ، ایس ایم ایس، وٹس ایپ وغیرہ پر ’’روحانی تشخیص‘‘ نہیں کی جاتی۔ جو حضرات تشریف نہیں لاسکتے، وہ حالات بتا کر روحانی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
۔*… روحانی علاج کے تین طریقوں کے بارے میں پڑھیں اور جب رابطہ فرمائیں تو ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کس طریقے پر علاج کروانا چاہتے ہیں؟
۔*… چوری، اغواء،گمشدگی، جادو کرنے کروانے والے کی معلومات جیسے معاملات میں معذرت۔ ان معاملات کے لیے وظیفہ بتا دیا جائے گا۔
۔*… ناجائز محبت، زبردستی شادی جیسے تمام معاملات سے معذرت۔
۔*… جدائی اور تباہی و بربادی جیسے اعمال کے لیے تحریری فتویٰ لازمی ہے۔
۔*… تیسرے طریقے والے علاج میں روحانی معالج سے جو معاملات طے کریں، اپنی ذمہ داری پر کریں۔ ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔
۔*… دینی مدارس کے طلبا ٔو اساتذہ اور غریب و مستحق افراد کا علاج فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے… لیکن تیسرے طریقے کا علاج نہیں کیا جاتاکیونکہ اس میں کافی محنت لگتی ہے ۔ وقت کی کمی کے پیشِ نظر معذور سمجھئے۔ اس لیے ایسے تمام افراد سےپیشگی معذرت ہے جو خرچہ نہیں کر سکتے اور تیسرے درجہ کا علاج کروانا چاہتے ہیں ۔مستحق افراد کو تیسرے درجے کے علاج میں رعایت دی جاتی ہے۔
نوٹ: روحانی علاج گاہ میں کس کس مقاصد کے لیے روحانی رہنمائی اور روحانی علاج کیا جاتا ہے

 

کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان  -- 2021



Subscribe for Updates

Name:

Email: