الواح، لوح کی جمع ہیں۔ لوح سے مراد خاص قسم کا تعویذ ہوتا ہے جو خاص وقت میں، خاص دھات یا کاغذ پر خاص طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔ خاص طریقے سے اور خاص وقت میں الواح کے تیار کرنے سے الواح  کی تاثیربہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ لوح کو پاس رکھنے والا، جس مقصد کے لیے لوح کو پاس رکھتا ہے، اس مقصد کے پورے ہونے کے اسباب بفضل ربی، بننا شروع ہو جاتے ہیں۔   
لوح اور تعویذ میں بنیادی فرق: فن کے اعتبار سے لوح کی تاثیر، تعویذ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور دیرپا بھی ہوتی ہے۔ چھوٹے مقاصد کے لیے تعویذات استعمال کیے جاتے ہیں اور بڑے مقاصد کے لیے الواح کو استعمال کیا جاتا ہے۔
لوح صرف ایک ہی بنا کر دی جاتی ہے جب کہ تعویذات کئی بار زیادہ تعداد میں دیے جاتے ہیں۔

لوح سے کب فائدہ نہیں ہوتا

جس طرح علاج کے ساتھ پرہیز ضروری ہوتا ہے، اسی طرح روحانی علاج میں بھی پرہیز ہوتا ہے۔ جس طرح بدپرہیزی سے اچھی سے اچھی دوا بھی فائدہ نہیں کرتی، اسی طرح روحانی علاج کا معاملہ ہے۔ نورانی الواح یا تعویذ کی تاثیر بھی بدپرہیزی سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ بدپرہیزی سے مراد خود گناہوں میں مبتلا ہونا یا ایسی جگہ جانا، جہاں سرِ عام گناہ ہو رہے ہوں۔ جیسے شراب پینا، زنا کرنا، گانا سننا بجانا وغیرہ۔ اور جگہ سے مراد ایسی تقریبات میں جانا جہاں اونچی آواز سے گانے بجائے جا رہے ہوں، اعلانیہ گناہ ہو رہے ہوں جیسے شراب نوشی، ڈانس وغیرہ۔  ایسے ماحول میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے بلکہ شیاطین کی کثرت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نورانی لوح یا تعویذ کی روحانی تاثیر بہت زیادہ خراب ہو جاتی ہے اور کبھی تو اثر بالکل زائل ہو جاتا ہے۔
 

 لوح کی تاثیر کیسے برقرار رکھی جائے

اس کے لیے سب سے اول تو گناہوں سے دوری اور نیک کام کرنا، نیک بزرگوں کی مجالس میں جانا شامل ہے۔ دوسرا ہفتہ میں ایک بار اچھے بخور یا اگربتی کی دھونی پابندی سے دیتے رہنا ہے۔ تیسرا کام اگر کوئی وظیفہ لوح کے ساتھ دیا گیا ہو تو اس کی پابندی کرنا۔

ہمارے ادارے میں دو قسم کی الواح دستیاب ہیں۔


کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان  -- 2018



Subscribe for Updates

Name:

Email: