نقد اجازت والے اعمال

ادارے میں ایسے کثیر اعمال ہیں جن کو سیکھنے اور استعمال کرنے کے لئے چلہ کشی کی بجائے صرف نقد صدقہ ادا کرکے وہ عمل استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ تفصیل سے پہلے ضروری  ہے کہ نقد اجازت کا فلسفہ سمجھا جائے تاکہ کوئی شک نہ رہے اور ان لوگوں کا بھی رد ہو سکے جو یہ کہتے ہیں کہ نقد صدقہ لے کر عمل سکھائے نہیں جا سکتے، چلہ کشی لازمی ہے۔

نقد اجازت کا فلسفہ

روحانی اعمال کی مثال باطنی ہتھیاروں کی ہے۔ جس طرح اگر کسی کو کوئی ہتھیار یعنی اسلحہ لینا ہو، وہ دکان پر جا کر اسلحہ لے لیتا ہے۔ یہ اس کی اپنی طاقت ہے کہ وہ اسلحہ اٹھا سکے، یہ اس کی اپنی مہارت ہے کہ وہ کسی طرح اس ہتھیار کو استعمال کرتا ہے۔ اگر اس کو صحیح استعمال کرنا نہیں آتا یا اس میں اتنی طاقت نہیں کہ زیادہ دیر اس اسلحہ کو اٹھا سکے تو اس میں دکان دار کا کوئی قصور نہیں۔ اس کا کام اسلحہ بیچنا تھا۔

بالکل اسی طرح نقد اجازت والے اعمال کو سمجھیں۔ عامل اپنی محنت سے کچھ روحانی اسلحہ جمع کرتا ہے۔ کچھ روحانی تعلقات بناتا ہے۔ پھر ضرورت کے وقت وہ اسلحہ بیچتا ہے، اپنے تعلق کا استعمال کرتا ہے اور روحانی قوت سے کام لینے کا طریقہ بغیر کسی چلہ کشی کے طالب کو بتاتا ہے۔ چونکہ وہ ذریعہ بنتا ہے، اس لئے وہ اس کی فیس لیتا ہے۔ اور اگر ہتھیار بیچتا ہے تو اس کی قیمت لیتا ہے۔

فیس والے اعمال

کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان  -- 2017



Subscribe for Updates

Name:

Email: